ہمیں جن کے غم اب بھی مارے ہوئے ہیں
ہمیں جن کے غم اب بھی مارے ہوئے ہیں وہ سمجھے کہیں اور ہارے ہوئے ہیں نہ دیکھا کبھی مُڑ کے پھر عاشقی میں کہاں ،کس طرح،کب خسارے ہوئے ہیں یہ اُجڑا نظر آرہا ہے جو جیون اِسے عشق میں ہم سنوارے ہوئے ہیں
تازہ ترین
نام۔۔۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ تاریخ پیدائش. 1 دسمبر ایم بی بی ایس ڈاکٹر، گائناکالوجسٹ، ،شاعرہ ،ادیبہ، سوشل ورکر ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان 1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔ 2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان.... 3۔۔صدر ادبی و سوشل تنظیم ۔۔آنچل 4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم 5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد 6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان 7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان 8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان 10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 11.ممبر آف انسٹی ٹیوٹشنل سکالر شپ ایوارڈ کمیٹی آف غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 12..چیئرپرسن آف ایڈوائزی کمیٹی ماڈل چلڈرن ہوم ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ غازی خان 13. ممبر آ ف بورڈ آف گورنر جم خانہ کلب ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 14.ممبر آف بورڈ آف گورنر ز، پنجاب آرٹس کونسل B.... 1..شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے 2.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 3.زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 4..نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 5.غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے ماریہ امبر نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 6.. غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے مریم نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 7..فیصل آباد یونیورسٹی سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں.. .8.مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ،، اور شام ٹھہر گئی، ،کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے 9.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ،، پھول خوشبو اور تارہ پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے 10..انڈیا میں محترمہ شاہدہ پی ایچ ڈی کا تھیسسز کر رہی ہیں 12..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان اور ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے. جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا.. اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں انکے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا ۔الحمداللہ جان سرجیکل ہسپتال کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے۔طبی مصروفیات کے باوجود شاعری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی ۔اب تک پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔ 2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔ 3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013 4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری2021 غیر مطبوعہ تصنیفات ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول 2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین 3..یہ جہاں اور میں... مضامین 4..یہ جہان، رنگ وبو.... مختلف انٹرویوز ایوارڈز۔۔ 1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ 2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ 3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد دونمائندہ اشعار۔ چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔ نمبر۔2۔۔ افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں ۔۔۔ جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں Website.. Www.drnajmashaheen.com YouTube link... https://www.youtube.com/channel/UCVJtvxLTCfPn1G5fU2425-g https://www.facebook.com/profile.php?id=1422229732
ہمیں جن کے غم اب بھی مارے ہوئے ہیں وہ سمجھے کہیں اور ہارے ہوئے ہیں نہ دیکھا کبھی مُڑ کے پھر عاشقی میں کہاں ،کس طرح،کب خسارے ہوئے ہیں یہ اُجڑا نظر آرہا ہے جو جیون اِسے عشق میں ہم سنوارے ہوئے ہیں
یہ دکھ تخلیق ہوتا جا رہا ہے سفر تاریک ہوتا جا رہا ہے کیا ہے اُس کو اپنے ساتھ شامل یہ دل تفریق ہوتا جا رہا ہے میں خود سے دور ہوتی جا رہی ہوں قفس نزدیک ہوتا جا رہا ہے کسی کو عشق نے عزت عطا کی کہیں
یہ شہر تو گونگا بہرا ہے یہ بہتا ہوا اک دریا ہے یہاں کون مجھے بتلائے گا مرا خواب کہاں پر سویا ہے ؟ اک آس کا دامن تھام کے یہ پیاسا من کہاں پہ رویا ہے ؟ اس شہر میں بسنے والو اب کچھ اپنے لئے ہی سوچو
جب بھی اس کو بھولنا چاہا یاد بہت وہ آیا ہے چاروں جانب دکھ کا موسم اور غموں کا سایہ ہے دشتِ تپاں میں حدِ نظر تک ایک ہی منظر چھایا ہے دھوپ کے شعلے آگ بگولے کون قیامت لایا ہے شہرِ نگاراں، محفل یاراں
جب چھوٹے تھے ہم ماں ہم کو پیسے دیتی اور کہتی تھی جاؤ فلاں دوکان سے جا کر چیزیں لاؤ ہم معصومیت سے ماں سے سوال کرتے ماں کیا پیسوں سے ہر شے مل جاتی ہے ماں مسکرا دیتی اور کبھی ایسا بھی ہوتا ایسے ہی
رگوں میں درد کے نشتر اُترنے والے ہیں جو ز خم دل کے ہیں اب یوں سنورنے والے ہیں ہوا کے دوش پہ جمتے نہیں قدم اپنے وفا کے نقش بھی ا ب تو بکھرنے والے ہیں خبر سحر کی نہ ہم کو چراغِ شب کی کوئی کہ اب تو
تم ہوئے جب سے خفا اپنے گرفتار کے ساتھ کچھ سروکار نہیں رونقِ بازار کے ساتھ کتنے انمول ہیں یہ مہر و وفا کے موتی کوئی پرکھو نہ انہیں درہم و دینار کے ساتھ کب سے ٹھہری ہے مرے دل میں ادھوری خواہش کاش
وفا دینے والے خوشی کی مجھے اب دعا دینے والے تجھے تو خبر ہے مرے پھول مرجھائے ہیں کس طرح سے یہ دکھ مجھ تلک آئے ہیں کس طرح سے تجھے تو خبر ہے تو پھر کیوں خوشی کی دعا دے رہا ہے وفا دینے والے دعا دے کے
خلوص کیوں ہے بے اثر، مجھے نہیں ہے کچھ خبر کہاں گیا وہ چارہ گر، مجھے نہیں ہے کچھ خبر کہاں پہ کون ساتھ ہو ، کہاں پہ کون چھوڑ دے کہاں پہ گم ہو رہ گزر، مجھے نہیں ہے کچھ خبر وہ لا پتہ ہوں جس نے خود
غم جو دل کو لاحق ہے میں آنکھ میں بانٹنا چاہوں رات کے ہر اک غم کا منظر خواب میں جھونکنا چاہوں توڑ دوں پاگل دل کو، یا سمجھا کر رام کروں میں درد جو بسا ہوا ہے روح میں، اُس کو نوچنا چاہوں میں چاہوں