کتابیں

زندگی جب بھی روبرو آئی

زندگی جب بھی روبرو آئی میں ہر اک دکھ کو خود ہی چھو آئی جب بھی اس کا خیال آیا ہے اپنے دل سے بھی مشکبو آئی ہے عجب رت یہ میرے گلشن میں لے کے دامن میں جو لہو آئی خار کچھ اور منتظر دیکھے کر کے دامن کو

نظم ۔۔ یہ عشق بستی بسانے والو

یہ عشق بستی بسانے والو مری جو مانو تو لوٹ جاؤ یہاں تو حاصل فقط زیاں ہے یہاں بھٹکتے ہر اک مسافرکے پاس دکھ ہے جو خواب آنکھوں میں بچ گئے ہیں اب ان کی بھی تواساس دکھ ہے اے خواب دنیا بسانے والو وفا کے

نظم ۔۔ محبتوں کا یہ طورِ سینا

سنو مسافر یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہو گی کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے اداس چہروں پہ ہی رقم ہے سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں