زندگی جب بھی روبرو آئی
زندگی جب بھی روبرو آئی میں ہر اک دکھ کو خود ہی چھو آئی جب بھی اس کا خیال آیا ہے اپنے دل سے بھی مشکبو آئی ہے عجب رت یہ میرے گلشن میں لے کے دامن میں جو لہو آئی خار کچھ اور منتظر دیکھے کر کے دامن کو
تازہ ترین
زندگی جب بھی روبرو آئی میں ہر اک دکھ کو خود ہی چھو آئی جب بھی اس کا خیال آیا ہے اپنے دل سے بھی مشکبو آئی ہے عجب رت یہ میرے گلشن میں لے کے دامن میں جو لہو آئی خار کچھ اور منتظر دیکھے کر کے دامن کو
جس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے زخموں سے کر گیا ہے وہی آشنا مجھے الجھی رہی میں ایک ہی رستے میں رات دن زنداں کے وسط میں کوئی دفنا گیا مجھے چلنا ہے آندھیوں میں سنبھل کر تمام رات ہاتھوں میں دے گیا
عجیب سی رتیں تھیں اور عجب ہی پیرہن ملا کہ لوگ پھول مانگتے تھے اور انہیں کفن ملا گلی گلی میں بس رچی ہوئی ہے خون کی مہک یہ موسم بہار بھی عجب، تجھے وطن ملا ہر ایک اپنی ذات کے حصار میں اسیر تھا کہ
میرے خدا میرے خدا محتسب مجھ پہ یہ احسان کر بھول کر میری سب لغزشیں زندگی آسان کر جلتے ہیں وقت کی دھوپ میں تنہا یہ جسم و جاں بچھا رحمت کی چادریں اپنا سایہ مہربان ک
یہ عشق بستی بسانے والو مری جو مانو تو لوٹ جاؤ یہاں تو حاصل فقط زیاں ہے یہاں بھٹکتے ہر اک مسافرکے پاس دکھ ہے جو خواب آنکھوں میں بچ گئے ہیں اب ان کی بھی تواساس دکھ ہے اے خواب دنیا بسانے والو وفا کے
سنو مسافر یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہو گی کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے اداس چہروں پہ ہی رقم ہے سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں
مدینے کو جاؤں، مدینے کو جاؤں عقیدت کی ساری میں رسمیں نبھاؤں میں جی بھر کے روؤں، میں آنسو پروؤں میں حال اپنا رو رو کے اُن کو سناؤں بڑھ بڑھ کے چوموں میں روضے کی جالی یہ پلکیں جو بھیگی ہیں اُس پہ
کہوں نعت کیسے، سلیقہ سکھا دو میری سانس کو موجِ خوشبو بنا دو گھری ہوں میں کب سے پریشانیوں میں میں عاجز ہوں آقا، مجھے حو صلہ دو تغافل میں جینا ہے شیوہ ہمارا ذرا خوابِ غفلت سے ہم کو جگا دو گناہوں نے
کسی کو میں اب تک خدا لکھ رہی ہوں میں مجرم نہیں پر سزا لکھ رہی ہوں کیا جس نے دامن کو خوشیوں سے خالی اس کیلئے بھی دعا لکھ رہی ہوں بنا ہے جو اب تک سبب تیرگی کا ستاروں کی اس کو ردا لکھ رہی ہوں کیا
جہاں جہاں گئی نظر، وہاں وہاں ملا ہے تو فرش سے عرش تک بس میرے پاک خدا ہے تو ہیں رنگ و نور کی بارشیں، جلوے ہیں تیرے سرِ آسماں چمن چمن دمن دمن جمالِ دلربا ہے تو کہیں تو سوز بلال میں ، کہیں یوسف کے