گفتگو۔خبریں سنڈے میگزین ۔رازش لیاقت پوری
ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھو سہ سے گفتگو ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،انہوں نے ابتدائی تعلیم کیلئے پرائمری سکول جندانی والا میں داخلہ لیا اور سوم کلاس میں تھیں کہ اپنے
تازہ ترین
نام۔۔۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ تاریخ پیدائش. 1 دسمبر ایم بی بی ایس ڈاکٹر، گائناکالوجسٹ، ،شاعرہ ،ادیبہ، سوشل ورکر ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان 1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔ 2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان.... 3۔۔صدر ادبی و سوشل تنظیم ۔۔آنچل 4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم 5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد 6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان 7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان 8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان 10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان 11.ممبر آف انسٹی ٹیوٹشنل سکالر شپ ایوارڈ کمیٹی آف غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 12..چیئرپرسن آف ایڈوائزی کمیٹی ماڈل چلڈرن ہوم ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ غازی خان 13. ممبر آ ف بورڈ آف گورنر جم خانہ کلب ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان 14.ممبر آف بورڈ آف گورنر ز، پنجاب آرٹس کونسل B.... 1..شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے 2.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 3.زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 4..نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے 5.غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے ماریہ امبر نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 6.. غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان سے مریم نے ایم اے کا تھیسسز کیا ہے 7..فیصل آباد یونیورسٹی سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں.. .8.مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ،، اور شام ٹھہر گئی، ،کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے 9.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ،، پھول خوشبو اور تارہ پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے 10..انڈیا میں محترمہ شاہدہ پی ایچ ڈی کا تھیسسز کر رہی ہیں 12..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان اور ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے. جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا.. اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں انکے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا ۔الحمداللہ جان سرجیکل ہسپتال کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے۔طبی مصروفیات کے باوجود شاعری کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی ۔اب تک پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔ 2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔ 3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013 4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری2021 غیر مطبوعہ تصنیفات ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول 2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین 3..یہ جہاں اور میں... مضامین 4..یہ جہان، رنگ وبو.... مختلف انٹرویوز ایوارڈز۔۔ 1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ 2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ 3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد دونمائندہ اشعار۔ چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔ نمبر۔2۔۔ افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں ۔۔۔ جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں Website.. Www.drnajmashaheen.com YouTube link... https://www.youtube.com/channel/UCVJtvxLTCfPn1G5fU2425-g https://www.facebook.com/profile.php?id=1422229732
ڈاکٹر نجمہ شا ہین کھو سہ سے گفتگو ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،انہوں نے ابتدائی تعلیم کیلئے پرائمری سکول جندانی والا میں داخلہ لیا اور سوم کلاس میں تھیں کہ اپنے
یہ عشق عجب لمحہ ء توقیر ہے جاناں خود میرا خدا اس کی ہی تفسیر ہے جاناں جو نام ہتھیلی کی لکیروں میں نہیں تھا کیوں آج تلک دل پہ وہ تحریر ہے جاناں اس خواب کی تعبیر تو ممکن ہی
تو نہیں تو جانِ جاں پھر یہ جہاں کچھ بھی نہیں جز ترے رنگینیء کون و مکاں کچھ بھی نہیں منتظر کوئی نہیں اب جل بجھے ہیں راستے مجھ کو مت بہلاؤ تم اب تو وہاں کچھ بھی نہیں اب نہیں وہ منتظر
پھر کارگاہِ عشق میں لایاگیامجھے پھر زندگی کاخواب دکھایاگیامجھے اک درد لادوامر ے حصے میں ڈال کر سپنوں کے دیس سے بھی جگایاگیامجھے حیرت زدہ ہے آنکھ اورحیراں ہے زندگی آئینہ خانے میں جو
چاہت تو صدیوں روتی ہے چاہت تو صدیوں روتی ہے ہجر کا چولا پہن کے اکثر وصل کے خواب لئے آنکھوں میں تعبیروں کی اک ست رنگی مالا روز پروتی ہے یہ بلک بلک کر روتی ہے
سلام بحضور امام عالی مقام کربل والوں کے دم سے ہے ،ہم کو پیارا ماتم اپنے دکھوں میں اس جیون کا، بس ہے سہارا ماتم جہاں پہ مشکیزے پر تیر لگا تھا اک ظالم کا کرتا ہو گا نہر ِفرات کا
” order_by=”sortorder” order_direction=”ASC” returns=”included” maximum_entity_count=”500″]