تازہ ترین
- متفرقٹوٹے تارے سے ہوئی مات
- متفرقجس کے خیال نے کیا سب سے جدا مجھے
- متفرقجشن آزادی مبارک 2024
- متفرقمیری زندگی میں تجھ سے بہت تھک کے جا رہی ہوں
- متفرقزمانے کیا لکھے گا تو اپنی تاریخ میں
- متفرقجشن آزادی مبارک
- متفرقجشن آزادی مبارک
- متفرقڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
- متفرقڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
- فوٹو گیلرینشتر میڈیکل کالج ،،،،کلاس فیلوز کے ساتھ ایک یادگار دن18-12-29
کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا
کیسے گزرے تجھِ بن رین میرے بادشاہا تجھ کو ترسے پیاسے نین میرے بادشاہا اَبد تلک میں بیٹھی ہوں بس آس لگائے تیری ہے تجھ سے ہی دل کو چین میرے بادشاہا تو جو ملا تو مہک ا’ٹھے گا مرے وجود کا گلشن پھر
عورت ہونے کی سزا
میری نا رسائی (عورت ہونے کی سزا) میں کیسے کروں بیاں اپنی نا رسائی اک عورت ہونے کی کیا میں نے ہے سزا پائی میں جو بیٹی بہن اور ماں کا روپ ہوں جو سچ پو چھو تو گود سے گورتک ان رشتوں کے لئے
بے بسی کی شام پر سسکی ہے پہروں زندگی
شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا
سلام قول من رب رحیم ۔۔’’ فبای الا ربکما تکذبن‘
سلام قول من رب رحیم سردیوں کی تھٹھرتی صبحیں ہوتیں یا گرمیوں کی خوشگوار صبحیں وہ بلا ناغہ روزانہ خوش الہانی آواز سے پڑھتی رھتیں الحمد سے صراط مستقیم کا مطالبہ کرتے خود کو اور اپنے پیاروں کو
اللہ بڑا منصف ہے
ہم ایسی دنیا میں محبت کی سچائی کیوں تلاش کرتے ہیں کہ جس میں محبت کے نام لیواؤں نے محبت کی بنیاد ہی دھوکا ،فریب اور ہوس پر رکھی ہو،۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنھوں نے اپنے فائدے اور دنیاوی ہوس اور
نعت رسول مقبولﷺ
نعت رسول مقبولﷺ طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی ملتی ہے اِس جہاں کو مدینے کی روشنی کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے پھیلا رہے تھے آپ ؐ قرینے کی روشنی اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیئے عطا یا
ڈاکٹر نجمہ شاہین,,, البم ..سال بہ سال
[Show picture list]
بے شک وہ سب سے بڑھ کرانصاف کرنے والا ہے
بیشک اللہ شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے بے شک وہ سب سے بڑھ کرانصاف کرنے والا ہے الرحمن الرحیم
تجھے زندگی میں ہم نے دل و جان سے ہے پوجا ،، کبھی پھر سے ہوں مراسم وہ بحال معذرت ہے
ترے لب پہ ایک جو ہے ، وہ سوال معذرت ہے مجھے تجھ سے زندگی اب تو کمال معذرت ہے یہ کمال معذرت ہے، اے غزال معذرت ہے کون اس طرح سے کاٹے مہ و سال معذرت ہے یہ صدائیں تیری بے کل ، انہیں کون
