کتابیں

مدتوں سے دربدر ہے زندگی

مدتوں سے دربدر ہے زندگی یعنی خود سے بے خبر ہے زندگی جب اسے اس کا پتہ ملتا نہیں کیوں یہ مصروفِ سفر ہے زندگی کچھ نہیں تشنہء لبی ہے چار سو دھوپ صحرا رہگزر ہے زندگی پھر دیارِ یار میں عقدہ کھلا جیسے

گیت ۔۔ زندگی رک جا ذرا ۔۔۔

زندگی رک جا ذرا اب پھر کہاں تُو ہے چلی زردیوں کے موسموں میں کب کھِلی کوئی کلی پھر کہاں تُو ہے چلی دیکھ وہ اک یاد دل میں موجزن ہے آج بھی آنکھ میں جو خواب تھے اُن کی چبھن ہے آج بھی جانتی ہے سامنے

نظم ۔۔ موسم ہیں بس چار

میرے بھرم کو توڑنے والے جفا کا رشتہ جوڑنے والے میرے دکھوں کو اور غموں کودیکھ کے اپنا رخ مجھ سے یوں موڑنے والے عمرِ رواں نے اس جیون میں موسم چار ہی بس دیکھے ہیں تجھ کو پانا تجھ سے ملنا تجھ سے