جب اپنا کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا
جب اپنا کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا کیسے کہیں کہ کوئی دوبارہ نہیں ملتا تم کیسے اندھیروں میں مجھے چھوڑ گئے ہو آنکھوں کو میری کوئی نظار ہ نہیں ملتا اس خاک سے ہم خود ہی بنا لیں کوئی تصویر افلاک سے اب
تازہ ترین
جب اپنا کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا کیسے کہیں کہ کوئی دوبارہ نہیں ملتا تم کیسے اندھیروں میں مجھے چھوڑ گئے ہو آنکھوں کو میری کوئی نظار ہ نہیں ملتا اس خاک سے ہم خود ہی بنا لیں کوئی تصویر افلاک سے اب
مدتوں سے دربدر ہے زندگی یعنی خود سے بے خبر ہے زندگی جب اسے اس کا پتہ ملتا نہیں کیوں یہ مصروفِ سفر ہے زندگی کچھ نہیں تشنہء لبی ہے چار سو دھوپ صحرا رہگزر ہے زندگی پھر دیارِ یار میں عقدہ کھلا جیسے
ہم نے عشق جذبوں کی جاگیر بکتے دیکھی ہے بہت انمول چہروں کی توقیر بکتے دیکھی ہے میں ان بے خواب آنکھوں میں سجاؤں کس طرح انکو کہ میں نے مہنگے خوابوں کی تعبیر بکتے دیکھی ہے عشق ایک موسم ہے اور میں نے
دیکھ مسیحا میرے لب پر کب سے ایک سوال کیسے چھیلوں اپنی آنکھ سے میں اس غم کی چھال ایک پرندہ قید میں ہے اک مدت سے بے حال اندر ہجر کا موسم ہے اور باہر وصل کا جال جنم جنم کے بچھڑے چل کر ایک نکالیں فال
زندگی رک جا ذرا اب پھر کہاں تُو ہے چلی زردیوں کے موسموں میں کب کھِلی کوئی کلی پھر کہاں تُو ہے چلی دیکھ وہ اک یاد دل میں موجزن ہے آج بھی آنکھ میں جو خواب تھے اُن کی چبھن ہے آج بھی جانتی ہے سامنے
میرے بھرم کو توڑنے والے جفا کا رشتہ جوڑنے والے میرے دکھوں کو اور غموں کودیکھ کے اپنا رخ مجھ سے یوں موڑنے والے عمرِ رواں نے اس جیون میں موسم چار ہی بس دیکھے ہیں تجھ کو پانا تجھ سے ملنا تجھ سے
غضب کی مار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی نیا کردار دیتا ہے ہمیں یہ دردِ تنہائی دھری رہتی ہے سب اپنی انا اس دشتِ وحشت میں کئی آزار دیتا ہے ہمیں یہ درد تنہائی شب ہجراں کی ظلمت ہی مقدر بن گئی اپنا دلِ
طے ان سے روزِ حشر ملاقات ہوگئی ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہوگئی جب سے کسی سے ترکِ ملاقات ہوگئی آنسو گرے کچھ ایسے کہ برسات ہوگئی اہل جنوں کو جشنِ چراغاں سے کیا غرض صحرا کی چاندنی میں بسر رات
تلخیاں اور بے بسی ، ویرانیاں چار جانب ہیں عجب حیرانیاں پیاس جب باقی نہیں چشمے ہیں کیوں کیا کروں دریا کی اب طغیانیاں روح سے محروم ہے اب یہ بدن اورکچھ راہیں بھی ہیں انجانیاں پھول خوشبو، وہ سفر اور
دیکھا جو خالی ہاتھ سویرے بھی ہنس پڑے بلایا جو میں نے چاند اندھیرے بھی ہنس پڑے کل تک الجھ رہی تھی میں جن سے وفا کے ساتھ وہ چھوڑ کر چلے تو لٹیرے بھی ہنس پڑے غیروں نے میرے حال پہ ہنسنا تھا سو ہنسے