نظم ۔۔ میں آنکھیں بند رکھتی ہوں
جب رخ یہ وقت بدلتاہے تقدیر جو مجھ پہ ہنستی ہے میری معصوم سی پلکوں پہ جب خواب نئے وہ چنتی ہے جب خواب وہ ٹوٹنے لگتے ہیں ان خوابوں کی کرچیوں کے خوف سے میں آنکھیں بند رکھتی ہوں میرے خاموش لبوں سے جب
تازہ ترین
جب رخ یہ وقت بدلتاہے تقدیر جو مجھ پہ ہنستی ہے میری معصوم سی پلکوں پہ جب خواب نئے وہ چنتی ہے جب خواب وہ ٹوٹنے لگتے ہیں ان خوابوں کی کرچیوں کے خوف سے میں آنکھیں بند رکھتی ہوں میرے خاموش لبوں سے جب
کیا کیا مہیب دشت دکھائے گی اے وفا لے کر تُو کس طرف کو اب جائے گی اے وفا رستے میں شام ہو گئی اب تو ذرا ٹھہر کتنا ہمیں تُو اور تھکائے گی اے وفا چپ ہیں زمین و آسماں سب دیکھتے ہوئے کیا کیا اب اور زخم
میرے گھر کی الجھی پگڈنڈیوں سے اس کے گھر کے راستوں تک چناب اور سندھ آتے ہیں چناب پار کرنے کو تو شاید کچا گھڑا مل بھی جائے مگر سندھ کے پار اترنے کو کچے گھڑے کی مٹی نہیں ملتی کچا گھڑا کیسے بناؤں ریت
مرا دل اس لیے دھڑکا نہیں ہے پلٹ کر اُس نے جو دیکھا نہیں ہے الٰہی میں کہاں پر آگئی ہوں اجالا بھی جہاں اُجلا نہیں ہے یہ آنسو بھی مسافر ہیں جبھی تو انہیں میں نے کبھی روکا نہیں ہے وہی اک خواب ہوتا ہے
عشق سے اپنی نسبت کے کچھ خاص حوالے رکھتی ہوں اسی لئے تو دشتِ وفا کی دھول سنبھالے رکھتی ہوں میں بھی کتنی سادہ دل ہوں دشمنِ جاں کو دوست کہوں مفت میں خود کو وہم و گماں میں اکثر ڈالے رکھتی ہوں تنہا
ہاتھ میں رائیگاں سی لکیریں جو ہیں آنکھ کے دشت میں یہ جو تصویر ہے یہ جو تعزیر ہے آسماں پر بکھرتے ستارے جو ہیں موسمِ وصل کے استعارے جو ہیں استخارے جو ہیں اِن کو دیکھا کبھی اِن کو جانچا کبھی تو یہ
سوزِ فراق و ہجر میں رنجور ہو گئے اپنی فصیلِ درد میں محصور ہوگئے بے نام منزلوں کی مسافت نہ پو چھئے ہر گام فاصلوں کے نشاں دور ہو گئے روح وبدن کے وصل کے لمحے تھے کیا عجیب ہم لوگ بن پیئے یونہی مخمور
پیار کی کب ہو سکیں شنوائیاں راہ میں تھیں منتظر رسوائیاں دے گئیں مجھ کو بہت تنہائیاں اس دلِ نادان کی دانائیاں کل خوشی کی چاہ میں مچلا تھا دل آج ہیں بس درد کی تنہائیاں طالب و مطلوب جب موجود ہیں کھو
شام کی دہلیز پر لیں درد نے انگڑائیاں جاگ اٹھے ہیں غم سبھی اور رو پڑیں تنہائیاں راستوں پر خاک ہے ، پھولوں سے خوشبو کھو گئی دن کا اب امکاں نہیں ہے کھو گئیں رعنائیاں جب وفا گھائل ہوئی ، دنیا میں جب
سنو مسافر یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہو گی کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے اداس چہروں پہ ہی رقم ہے سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں