کتابیں

نثری نظم ۔۔ ریت تو پھر ریت ہے

میرے گھر کی الجھی پگڈنڈیوں سے اس کے گھر کے راستوں تک چناب اور سندھ آتے ہیں چناب پار کرنے کو تو شاید کچا گھڑا مل بھی جائے مگر سندھ کے پار اترنے کو کچے گھڑے کی مٹی نہیں ملتی کچا گھڑا کیسے بناؤں ریت

مرا دل اس لیے دھڑکا نہیں ہے

مرا دل اس لیے دھڑکا نہیں ہے پلٹ کر اُس نے جو دیکھا نہیں ہے الٰہی میں کہاں پر آگئی ہوں اجالا بھی جہاں اُجلا نہیں ہے یہ آنسو بھی مسافر ہیں جبھی تو انہیں میں نے کبھی روکا نہیں ہے وہی اک خواب ہوتا ہے