کتابیں

نظم ۔۔ جب دل یہ حقیقت سمجھے گا

اس عشق کی تو منزل ہی نہیں اور وفا تو بس اک قصہ ہے جب دل یہ حقیقت سمجھے گا تب خاک بدن پر اوڑھیں گے یہ اندھیارے اپنے ساتھی جو ہر دم ساتھ نبھاتے ہیں یہ چاند بہت ہرجائی ہے ہم اس سے منہ اب موڑیں گے یہ

نظم ۔۔ یہ عشق بستی بسانے والو

یہ عشق بستی بسانے والو مری جو مانو تو لوٹ جاؤ یہاں تو حاصل فقط زیاں ہے یہاں بھٹکتے ہر اک مسافرکے پاس دکھ ہے جو خواب آنکھوں میں بچ گئے ہیں اب ان کی بھی تواساس دکھ ہے اے خواب دنیا بسانے والو وفا کے

ابتدا درد ہے، انتہا درد ہے

ابتدا درد ہے، انتہا درد ہے عشق کا درد تو لا دوا درد ہے میں نے پوچھا وفا کا صلہ جو کبھی اُس نے ہنس کر یہ مجھ سے کہا دردہے پیار سے عشق تک جا بجا روشنی پیار سے عشق تک جا بجا درد ہے یہ نیا پھول ہے