نظم ۔۔ جب دل یہ حقیقت سمجھے گا
اس عشق کی تو منزل ہی نہیں اور وفا تو بس اک قصہ ہے جب دل یہ حقیقت سمجھے گا تب خاک بدن پر اوڑھیں گے یہ اندھیارے اپنے ساتھی جو ہر دم ساتھ نبھاتے ہیں یہ چاند بہت ہرجائی ہے ہم اس سے منہ اب موڑیں گے یہ
تازہ ترین
اس عشق کی تو منزل ہی نہیں اور وفا تو بس اک قصہ ہے جب دل یہ حقیقت سمجھے گا تب خاک بدن پر اوڑھیں گے یہ اندھیارے اپنے ساتھی جو ہر دم ساتھ نبھاتے ہیں یہ چاند بہت ہرجائی ہے ہم اس سے منہ اب موڑیں گے یہ
رت جگے ، آنسو ، دعائے بے اثر ہے اور میں عشق لا حاصل ہے ، اک اندھا سفر ہے اور میں چھوڑ کر آئی ہوں ہر منزل کو میں جانے کہاں یہ دلِ سودائی اب تک بے خبر ہے اور میں اب تلک رستے وہی اور عکس آنکھوں میں
یہ عشق بستی بسانے والو مری جو مانو تو لوٹ جاؤ یہاں تو حاصل فقط زیاں ہے یہاں بھٹکتے ہر اک مسافرکے پاس دکھ ہے جو خواب آنکھوں میں بچ گئے ہیں اب ان کی بھی تواساس دکھ ہے اے خواب دنیا بسانے والو وفا کے
منظر تمام آج تک آنکھوں پہ بوجھ ہیں جتنے بھی خواب ہیں مری پلکوں پہ بوجھ ہیں اُترے گا چاند تو مری بھر آئے گی یہ آنکھ تارے فلک سے ٹوٹ کر راتوں پہ بوجھ ہیں سوچوں پہ نقش ہیں وہ جو پَل تھے وصال کے دکھ
یہ ہجر کا راستہ ہے جس پر میں تنہا تنہا سی چل رہی ہوں بس اُسکی یادوں کی دھوپ ہے اور میں قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں یہ وصل لمحوں کی روشنی ہے جو دل کی دنیا میں آبسی ہے مہکتی یادوں کی چاندنی ہے ،میں جس
مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے کوئی دھندلا سا منظر ہے جو اجلا یاد آتا ہے فضائے دل پہ طاری ہے بہت ہی حبس کا موسم تری قربت کی خوشبو کا وہ جھونکا یادآتا ہے کہا تم تو جدائی کا وہ منظر
کہیں پہ گرد کہیں پر ہوا بناتی ہوں میں خود کو اب تو بس اپنے سوا بناتی ہوں کہیں پہ تارے کہیں پر ہیں آس کے جگنو خزاں میں بھی میں گلوں کی فضا بناتی ہوں بکھر گئے تھے کسی نام کے حروف کہیں اب ان کو جوڑ
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ رشتے گر ضرورت سے جڑے ہوں تو وہ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں ضرورت پوری ہونے پر ضرورت مند اک دوجے سے اکثر روٹھ جاتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دنیا ضرورت ہے یہاں پر سانس لینا ، بات
ابتدا درد ہے، انتہا درد ہے عشق کا درد تو لا دوا درد ہے میں نے پوچھا وفا کا صلہ جو کبھی اُس نے ہنس کر یہ مجھ سے کہا دردہے پیار سے عشق تک جا بجا روشنی پیار سے عشق تک جا بجا درد ہے یہ نیا پھول ہے
دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و اما م