نعت ۔۔ مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی
مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی روح مردہ تھی لیکن مجھے یوں لگا زندگی ہو گئی پھر سحابِ کرم سے خزاؤں میں بھی پھول کھلنے لگے دیکھ کر سبز گنبد بہاروں سے بس دوستی ہو گئی ہے مرے واسطے تو
تازہ ترین
مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی روح مردہ تھی لیکن مجھے یوں لگا زندگی ہو گئی پھر سحابِ کرم سے خزاؤں میں بھی پھول کھلنے لگے دیکھ کر سبز گنبد بہاروں سے بس دوستی ہو گئی ہے مرے واسطے تو
اے خدا ، اک دعا اک دعا، اے خدا آج کعبے کا دیدار میں نے کیا آج تُو نے مکمل کیا ہے مجھے رحمتوں کو مرا یوں سہارا کیا خاک تھی ، آسماں کا ستارہ کیا بس یہیں اب سپردِ زمیں کر مجھے اپنے ہی شہر کی اب مکیں
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ہمارے وسیب کی ایک ہر دلعزیز لیڈی ڈاکٹر، دلآویز شخصیت کی مالک اور اُردو شاعرہ ہیں۔ ان کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کے معروف قبیلہ کھوسہ کے ایک معزز بلوچ گھرانے سے ہے جو حصول
ڈیرہ غازی خان کے نواح میں ایک چھوٹی سی بستی ہے جسے بستی جندانی کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔اسی بستی کی ایک بچی اپنی بہن کے ہمراہ بستی سے دور ایک سکول جایا کرتی تھی۔ایک چھوٹا ساسکول۔۔ جیسے دورافتادہ
اے میرے مولااے میرے آقا،بس اپنے رستے پہ ڈا ل دے توُ یہ فانی دنیاکے غم ہیں جتنے ، یہ میرے دل سے نکا ل دے توُ ہو نام تیرا ہی دل کے اندر، ہو ذکر تیرا مرے لبوں پر ہو اتنی سچی یہ میری چاہت، کہ عشق بھی
جس طرح ادب کو ذات ،مذہب ،نسل اور علاقائی خانوں میں میں رکھ کر پرکھا نہیں جا سکتااسی طرح صنفی سطح پر بھی اس کی قدر و قیمت طے نہیں کی جا سکتی۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعصبات کی قید سے رہاہو
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا شمار اُن شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت مختصر وقت میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران شائع ہونے والے اُن کے شعری مجموعوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں
ڈاکٹرنجمہ شاہین کی شاعری کا رنگ حنائی ہے ۔حناہمیشہ دو رنگوں کا امتزاج ہوتی ہے ۔حیا دار سبز رُتوں کے اندر جذبوں کا سرخ رنگ بھینی بھینی خوشبو دیتا ہے تو غنائی سُر بیدار ہونے لگتے ہیں۔جو سہاگ کی گت
’’ پھول سے بچھڑی خوشبو ‘‘ اور ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘کے بعد سوچا تھا کہ شاید سفر کٹ گیا۔ مگر یہ دکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ تنہائیوں، محرومیوں،محبتوں اور جدائیوں کے دکھ ، کہیں انت ہی نہیں
بس چکی ہے جو دل و جاں میں محبت تیری بھول سکتی ہوں بھلا کیسے وہ چاہت تیری تیری یادوں سی ہے وابستہ مرے دل کا سکون اک گھنی چھاؤں کی صورت تھی رفاقت تیری تیری صورت کے مشا بہ نہیں صورت کوئی میں نے ہر