کتابیں

گیت ۔۔ زندگی رک جا ذرا

زندگی رک جا ذرا اب پھر کہاں تُو ہے چلی زردیوں کے موسموں میں کب کھِلی کوئی کلی پھر کہاں تُو ہے چلی دیکھ وہ اک یاد دل میں موجزن ہے آج بھی آنکھ میں جو خواب تھے اُن کی چبھن ہے آج بھی جانتی ہے سامنے

نظم ۔۔ آپ کون ؟

عجیب سی یہ بات ہے کہ جو مرایقین تھا جو تپتے راستوں میں میرے واسطے گلوں کی سر زمین تھا کہ جو مرا گمان تھا جو ابر تھا مرے لئے جو میرا آسمان تھا جو میری ابتدا تھا اور مرا جو اختتام تھا جو میری صبحِ

آندھیوں میں اُڑا رہی ہے وفا

آندھیوں میں اُڑا رہی ہے وفا دشت کیسے دکھا رہی ہے وفا چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں مگر اک نئی رہ دکھا رہی ہے وفا پھر کوئی زخم بھرنے والا ہے پھر مجھے یاد آرہی ہے وفا ایک منظر مٹا دیا میں نے ایک منظر

نظم ۔۔ اعترافِ وفا

کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر