گیت ۔۔ زندگی رک جا ذرا
زندگی رک جا ذرا اب پھر کہاں تُو ہے چلی زردیوں کے موسموں میں کب کھِلی کوئی کلی پھر کہاں تُو ہے چلی دیکھ وہ اک یاد دل میں موجزن ہے آج بھی آنکھ میں جو خواب تھے اُن کی چبھن ہے آج بھی جانتی ہے سامنے
تازہ ترین
زندگی رک جا ذرا اب پھر کہاں تُو ہے چلی زردیوں کے موسموں میں کب کھِلی کوئی کلی پھر کہاں تُو ہے چلی دیکھ وہ اک یاد دل میں موجزن ہے آج بھی آنکھ میں جو خواب تھے اُن کی چبھن ہے آج بھی جانتی ہے سامنے
کرے اگر خواب مہربانی تو نیند آئے تھمے کبھی آنکھ سے جو پانی تو نیند آئے یہ دیس جس میں ہے نفرتوں کا ہی راج ہر سوُ محبتوں کی ہو راجدھانی تو نیند آئے بہت دلاسہ دیا کہ وہ لوٹ آئے گا بس یہ بات دل نے
خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے شب جاگتے رہنے میں بھی نقصان نہیں ہے رستہ وہ بدلنا ہی تھا ہم دونوں نے لیکن حیرت تو یہی ہے کہ تُوحیران نہیں ہے کیوں خوف زدہ ہو گئے تم ایک گھٹا سے؟ میں نے تو
عجیب سی یہ بات ہے کہ جو مرایقین تھا جو تپتے راستوں میں میرے واسطے گلوں کی سر زمین تھا کہ جو مرا گمان تھا جو ابر تھا مرے لئے جو میرا آسمان تھا جو میری ابتدا تھا اور مرا جو اختتام تھا جو میری صبحِ
آندھیوں میں اُڑا رہی ہے وفا دشت کیسے دکھا رہی ہے وفا چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں مگر اک نئی رہ دکھا رہی ہے وفا پھر کوئی زخم بھرنے والا ہے پھر مجھے یاد آرہی ہے وفا ایک منظر مٹا دیا میں نے ایک منظر
کبھی بچے تھے تو سنتے تھے آکاس بیل تناور درخت کو جکڑ لے تو اس کی طاقت ، اس کے حسن کو اپنی بانہیں پھیلا کر ختم کر دیتی ہے تب پہروں بیٹھ کے سوچا کرتے تھے آکاس بیل ہوتی ہے کیا جب عشق ہجر کے دکھ نے من
کیا تھا اک بار اگر تم نے بھی اعترافِ وفا کیا ہوتا زمانے سے تجھ کو بھی جدائی کا گلہ ہوتا جرمِ وفا کے معنی کو تم نے بھی پڑھا ہوتا جس نے دل سے تجھے چاہا تھا کبھی اُس کو اپنا بھی کہا ہوتا دلِ نامعتبر
اے شبِ تار ! تجھکو معلوم بھی ہے ؟ تیری تاریکی میں دیئے جلانے والی یہ تنہا لڑکی اب تک اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے کیوں الجھتی ہے ؟ کس کی راہ تکتی ہے ؟
پھر رت یہ جدائی کی میرا گیت نہ ہو جائے کہیں ساز محبت ہی رِیت نہ ہو جائے منظر یہ بچھڑنے کا نہ آنکھوں میں ٹھہر جائے پھر پھول کی خوشبو نہ ہواؤں میں بکھر جائے اک بار گلے مل کے ذرا کھل کے تو رو لوں
میں دشتِ وحشت کی تنہا لڑکی کسے پکاروں ، کسے صدا دوں میں کس کے دامن سے لگ کے روؤں میں کس کو اپنے یہ اشک سونپوں بکھرے خوابوں کی کانچ لیکر سلگتی خواہشوں کی آنچ لیکر جو بے سمت سفر سراب کر رہی ہوں میں