ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں
ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں آتشِ ہجر سے ہر لمحہ پگھلتی آنکھیں ایک لمحے کی ملاقات ہوئی عمر کا روگ اُس کی صورت کوہیں ہر وقت ترستی آنکھیں دلِ بے تاب میں اب تک وہ مچلتی خواہش تیری خوشبو سے
تازہ ترین
ہر گھڑی درد کی شدت سے بلکتی آنکھیں آتشِ ہجر سے ہر لمحہ پگھلتی آنکھیں ایک لمحے کی ملاقات ہوئی عمر کا روگ اُس کی صورت کوہیں ہر وقت ترستی آنکھیں دلِ بے تاب میں اب تک وہ مچلتی خواہش تیری خوشبو سے
درد مسافر ٹھہر گیا تھا اکھیوں کی حیرانی میں صرف محبت بہتی تھی اور ساتھ یہ اشک روانی میں کیسے ہوا اور کب یہ ہوا کچھ خبر نہیں تھی دل کو تو ایک محبت جاسوئی تھی وحشت میں، ویرانی میں درد کی شدت اور
کل ایک ہنستی مگر اُداس آنکھوں والی معصوم لڑکی کو دیکھا جو اپنے خوابوں کے شہزادے کی سنہری آنکھوں میں جھانکتی اُس کی ہر ادا کو اپنی نیل سمندر آنکھوں میں اتار رہی تھی وہ کھکھلاتا ہوا ایک مٹھائی کا
جیون میں دائمی سی کوئی شام کر گیا وہ رَت جگے اَبد کے مرے نام کر گیا تصویر تھی جو آنکھ کے پردے پہ رہ گئی اک عکسِ خاص تھا وہ جسے عام کر گیا حرفِ وفا کو حرفِ غلط کہہ کے ایک شخص میرے یقیں کو کیوں
اجنبی شہر کی اجنبی شام میں زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو زندگی سے گئی زندگی شام میں درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں عشق پر آفریں جو سلامت
ابر کی صورت میرے سر پر ایک دعا ہی رہتی ہے میری اپنی ذات بھی اس کی خوشبو سے ہی مہکی ہے اپنے دکھوں پر رونے والی میرے لیے تو ہنستی ہے میری تاریکی میں ہر پل جھلمل کرنوں جیسی ہے میرا ہر اک دکھ جو
محبتوں کا صلہ نہیں ہے لبوں پہ حرفِ دعا نہیں ہے نہیں وہ تصویر پاس میرے سو ہاتھ میرا جلا نہیں ہے میں اپنی لو میں ہی جل رہی ہوں جو بجھ گیا وہ دیا نہیں ہے بس اِک پیالی ہے میز پر اور وہ منتظر اب مرا
اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے دیکھوں جدھر مجھے ترا جلوہ دکھائی دے شہر شب فراق کے گہرے سکوت میں اپنی صدا مجھے بھی کبھی تو سنائی دے یادِ حبیب مجھ کو بھی اب مجھ سے کر جدا مجھ کو ہجوم درد میں
پت جھڑ میں، خزاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں میں زرد فضاؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں بھرنے ہیں کئی رنگ مجھے اپنے د یئے میں کیوں تیز ہواؤں میں تجھے ڈھونڈ رہی ہوں نکلی ہوں کسی دُھن میں کسی یادکو لے کر
جو کھو چکے ہیں وہ منظر تلاش کرتی ہوں بکھر گئے ہیں جو پیکر تلاش کرتی ہوں کبھی تلاش جو کرنا ہو اپنا آپ مجھے تو اُ س کی ذات کے اندر تلاش کرتی ہوں بچھڑ گئی ہوں میں اُس سے مگر نہیں بچھڑی جو بند اُس نے