محبت کا چاند گرہن !
ماں کہتی تھی میری ننھی سی گڑیا آج باہر نہ نکل کیا تجھ کو معلوم نہیں آج سورج گرہن ہے روایت کہتی ہے سورج گرہن ہو تو دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں چہرے مرجھاجاتے ہیں ان پہ زردی چھا جاتی ہے
تازہ ترین
ماں کہتی تھی میری ننھی سی گڑیا آج باہر نہ نکل کیا تجھ کو معلوم نہیں آج سورج گرہن ہے روایت کہتی ہے سورج گرہن ہو تو دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں چہرے مرجھاجاتے ہیں ان پہ زردی چھا جاتی ہے
کس کی آس امید پہ اے دل! آنکھیں روز بچھاتے ہیں دن بھر اس کی راہ تکتے ہیں، شب بھر دئیے جلاتے ہیں خون کے آنسو روتے ہیں، فرقت کی لمبی راتوں میں شب بھر تارے گنتے ہیں، ہم چاند سے آنکھ چراتے ہیں صدیوں
اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو کہو کیسے ہجر کی رات کٹی اور کتنے ملے ہیں ملال کہو؟ کیا ہجر کا دکھ زندہ ہے ابھی کسی آتے جاتے موسم میں؟ یا ماضی کا قصہ ٹھہرا ہے آج وہ عہدِ وصال کہو؟
مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری ہونٹوں پہ رہ گئی تھی کوئی بات آخری آنکھوں کے دشت میں تھے نگینے سجے ہوئے چاہت کی جس طرح سے ہو سوغات آخری ٹھہرا ہوا سا د ن تھا اور گہری اداس
کیسے عجیب دکھ تھے،دل میں چھپا کے لائے گردِ سفرتھی رہ میں ،بس ہم اٹھا کے لائے ہر رہ گزرپہ اُس کو رکھنا تھا یاد سو ہم انجان راستوں میں، خود کو بھلا کے آئے جیون کی دھوپ میں یوں تنہا سفر تھا اپنا سکھ
سلام دکھوں کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو اشک اپنے تمام لکھوں لہو میں ڈوبیں جو حرف سارے، امام تیرا سلام لکھوں وہ جس نے سجدے میں سر کٹا کے ہمیں نوازا بلندیوں سے وفا کے سجدوں کے شاہ کو ہی میں آج شاہ و
خوش گمانی کوسلام اس بدگمانی کوسلام کررہی ہوں پیار کی ہر مہربانی کوسلام وحشتوں کے سائے ہی اپنامقدرہوگئے وہ جومرجھانے لگی ہے اُس جوانی کوسلام ہم مسافرہیں جنوں کے راستے پرگامزن بے سروسامان ہیں اپنی
ہے گردشوں میں دیکھئے مری سحر ابھی غموں کی رات کیسے ہو گی مختصر ابھی ؟ یقیں تو ہے وہ ایک دن ضرور لوٹ آئے گا مگر کٹھن وفاؤں کی ہے رہگزر ابھی گو باغباں نے کوششیں تمام کیں مگر وفا کی شاخ پر نہ آئے گا
وہ ہلالِ عید کو دیکھ کر بھی اداس ہے اسے یاد ہے کسی عید پر کہیں چاہتوں کی نوید پر کوئی کہہ گیا تھا اُسے کبھی کہ میں چاند ہوں تری عید کا مرے بن منانا نہ عید تُو کہ میں آؤں گاترے پاس جب کسی ایک وصل
اس سے بڑھ کر مری وفا کا کوئی نہیں گواہ غزلیں ، نظمیں ، سجدے،آنسو اور اِک شب سیاہ ہر اِک گام پہ ہوتا ہے کیوں ارمانوں کا خون صرف سلامت رہ جاتے ہیں کیوں منصب اور جاہ اسی لیے تو روشن مصرعے روشنیاں