اور شام ٹھہر گئی

نثری نظم ۔۔ میں بجھنے لگی ہوں

وہ کہتا تم ہنستے اچھی لگتی ہو تم ہمیشہ ہنستی رہنا رونے والوں کا کبھی ساتھ نہ دینا کہ رونے والے تو سبھی تنہا ہوتے ہیں میں نے اس کی باتوں اس کے لفظوں کو لوحِ دل پر لکھا زمانے کے ساتھ ہنسنا اور

عجب چیز ہے پا کے جو کھو چکی ہوں

عجب چیز ہے پا کے جو کھو چکی ہوں کچھ اس طرح پاگل بھی اب ہو چکی ہوں جو پلٹا نہیں ہے وہ مصروف ہو گا یہی سوچ کر میں بھی اب سو چکی ہوں محبت کی بنجر زمیں ہے اور اس میں وفا کا ہر اک بیج کیوں بو چکی ہوں

نظم ۔۔ دوام کرنا

یہ بات کہنی ہے تم سے جاناں جو ہو سکے تو پلٹ کے آنا جو میرے خوابوں کی کرچیاں ہیں وہ آ کے چننا وہ کرچیاں جن میں آج بھی کچھ نشانیاں ہیں شرارتیں ہیں ، اداسیاں ہیں گئے دنوں کی کہانیاں ہیں وہ دن کہ جن

نظم ۔۔ گر ہم کو تم جھٹلاؤ گے

یہ شہر تو گونگا بہرا ہے یہ بہتا ہوا اک دریا ہے یہاں کون مجھے بتلائے گا مرا خواب کہاں پر سویا ہے ؟ اک آس کا دامن تھام کے یہ پیاسا من کہاں پہ رویا ہے ؟ اس شہر میں بسنے والو اب کچھ اپنے لئے ہی سوچو

نثری نظم ۔۔ بِکتے دیکھا جہاں

جب چھوٹے تھے ہم ماں ہم کو پیسے دیتی اور کہتی تھی جاؤ فلاں دوکان سے جا کر چیزیں لاؤ ہم معصومیت سے ماں سے سوال کرتے ماں کیا پیسوں سے ہر شے مل جاتی ہے ماں مسکرا دیتی اور کبھی ایسا بھی ہوتا ایسے ہی