اور شام ٹھہر گئی

نظم ۔۔ تجھے تو خبر ہے

وفا دینے والے خوشی کی مجھے اب دعا دینے والے تجھے تو خبر ہے مرے پھول مرجھائے ہیں کس طرح سے یہ دکھ مجھ تلک آئے ہیں کس طرح سے تجھے تو خبر ہے تو پھر کیوں خوشی کی دعا دے رہا ہے وفا دینے والے دعا دے کے

نظم ۔۔ مَیں؟

اس بدن کے ملبے کے اندر اک دل کی اجڑی تختی ہے جس میں سناٹے بولتے ہیں یادوں کے در جو کھولتے ہیں کچھ خوابوں کے ذرے ہیں جو اس لہو میں خلیوں کی صورت جب رقص کریں تو بولتے ہیں کچھ بکھرے آس کے ٹکڑے ہیں

نظم ۔۔ رستہ مجھے دکھا دے

اے زندگی میں تجھ سے بس اتنا پوچھتی ہوں منزل کہاں ہے میری ؟کچھ تو مجھے بتا دے بھٹکی ہوئی مسافر ، رستہ مجھے دکھا دے صبحِ ازل کہاں ہے ؟ شامِ ابد کہاں ہے ؟ موت و حیات کیا ہے ؟ یہ کائنات کیا ہے؟ جسموں

قربتِ گل ہمیں نہ راس آئی

قربتِ گل ہمیں نہ راس آئی روز ڈستی رہے گی تنہائی اس میں رستے کا تو کمال نہیں ہم نے ٹھوکر اگر نہیں کھائی ہم تو سب کو امیر لگتے ہیں دولتِ درد جب سے ہے پائی جب مری آنکھ ہی نہیں برسی پھر تری یاد دل