اور شام ٹھہر گئی

ابتدا درد ہے، انتہا درد ہے

ابتدا درد ہے، انتہا درد ہے عشق کا درد تو لا دوا درد ہے میں نے پوچھا وفا کا صلہ جو کبھی اُس نے ہنس کر یہ مجھ سے کہا دردہے پیار سے عشق تک جا بجا روشنی پیار سے عشق تک جا بجا درد ہے یہ نیا پھول ہے

نظم ۔۔ اے خدا، اک دعا

اے خدا ، اک دعا اک دعا، اے خدا آج کعبے کا دیدار میں نے کیا آج تُو نے مکمل کیا ہے مجھے رحمتوں کو مرا یوں سہارا کیا خاک تھی ، آسماں کا ستارہ کیا بس یہیں اب سپردِ زمیں کر مجھے اپنے ہی شہر کی اب مکیں