اور شام ٹھہر گئی

نثری نظم ۔۔ آدھا بسکٹ

کل ایک ہنستی مگر اُداس آنکھوں والی معصوم لڑکی کو دیکھا جو اپنے خوابوں کے شہزادے کی سنہری آنکھوں میں جھانکتی اُس کی ہر ادا کو اپنی نیل سمندر آنکھوں میں اتار رہی تھی وہ کھکھلاتا ہوا ایک مٹھائی کا

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو زندگی سے گئی زندگی شام میں درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں عشق پر آفریں جو سلامت

نظم ۔۔ ماں اِک ایسی ہستی ہے

ابر کی صورت میرے سر پر ایک دعا ہی رہتی ہے میری اپنی ذات بھی اس کی خوشبو سے ہی مہکی ہے اپنے دکھوں پر رونے والی میرے لیے تو ہنستی ہے میری تاریکی میں ہر پل جھلمل کرنوں جیسی ہے میرا ہر اک دکھ جو